Ticker

6/recent/ticker-posts

بھگت سنگھ کو سرخ سلام

شہید بھگت سنگھ برصغیر کی جدوجہد آزادی کا تابندہ ستارہ ہے جنہوں نے آج سے 90 سال پہلے ھندستان (برصغیر) کی آزادی کے لیے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ کامریڈ بھگت سنگھ کا نظریہ مزید طاقتور ہو رہا ہے۔ انڈیا کے اندر نوجوان چاہے وہ لیفٹ پارٹی سے ہو یا کسی جمہوریت پسند پارٹی سے تعلق رکھتا ہو وہ کامریڈ بھگت سنگھ کو اپنا ہیرو مانتے ہیں اور بھگت سنگھ کی تصویریں اپنے سینوں پر سجاتے ہیں لیکن افسوس کہ پاکستان میں آزادی کے سپوت شہید بھگت سنگھ کو وہ مقام نہیں مل سکا جس کے وہ حقدار ہیں۔ بھگت سنگھ چونکہ مسلمان نہیں ہے اس لیے ان کی برسی کو سرکاری طور پر نہیں منایا جاتا اور ان کی یادگار، ان کے نام پر کوئی سکول، کالج، پارک یا سڑک بھی نہیں ہے۔ حکومت نے ان کے گھر کی دیکھ بھال نہیں کی اور نہ ہی اسے قومی ورثہ میں شامل کیا ہے۔

بھگت سنگھ کی تحریک بنیادی طور پر برصغیر کی آزادی اور برطانوی سامراج کے ساتھ لڑائی کی تحریک تھی جس کے نتیجے میں برطانوی سامراج کے پاؤں برصغیر کی زمین سے اکھڑنے لگے اور اسے یہاں سے جانا پڑا،جس کے نتیجے میں پاکستان معرض وجود میں آیا۔ گویا پاکستان کی آزادی میں بھی بھگت سنگھ کا اتنا ہی کردار ہے جتنا ہندوستان کی آزادی میں۔
کامریڈ بھگت سنگھ کے نظریات کو مختصراً سمجھنا چاہیئے کہ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ میرے نزدیک انسانیت سے بڑا کوئی مذہب نہیں ہے اور کہا کہ میری دہشتگردی کی کاروائی اس لیے تھی کہ برصغیر پر برطانیہ کے ظلم کو آشکار کیا جائے اور یہاں کے لوگوں میں ان کے ڈر،خوف کو توڑا جائے۔

کامریڈ شہید بھگت سنگھ نے کہا کہ آزادی کی جنگ کچھ بھی نہیں ہے جب تک نظام بدل نہ سکے انقلاب کے بغیر اور نظام کی تبدیلی کے بغیر ہر آزادی ادھوری ہے۔

بھگت سنگھ نے اپنے بیانات اور تحریروں میں واضح کیا کہ انقلاب دہشت گردی سے یا کچھ لوگوں کو قتل کر کے  برپا نہیں کیا جا سکتا، ساری پارلیمنٹ کے ممبران کو مار دینے سے بھی انقلاب ممکن نہیں، بلکہ انقلاب منظم عوامی بغاوت کے نتیجے میں رونما ہوتے ہیں۔ لہٰذا ہمیں بھی یہ بات ذہن میں رکھتے ہوئے آج کامریڈ بھگت سنگھ کی شہادت کے دن کے موقع پر یہ عہد کرنا ہے کہ ہم اپنے ملک پاکستان کے اندر انقلاب کے لیے عام آدمی کو منظم کر کے انقلاب برپا کریں گے اور ایسا نظام لائیں گے جس کے نتیجے میں کوئی رنگ، نسل، مذہب، جنس، قوم کا امتیاز نہ ہو۔جس نظام کے اندر ہر انسان کو علاج، تعلیم، روزگار اور گھر مہیا کرنا ریاست کی زمہ داری ہو۔اس مقصد کے حصول کے لیے تمام ذرائع پیداوار اجتماعی ملکیت میں لا کر نجی ملکیت کا خاتمہ کرنا ہو گا۔
کامریڈ بھگت سنگھ زندہ باد
انقلاب زندہ باد

پولٹ بیورو کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان

مرکزی سیکریٹریٹ۔
کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان



Post a Comment

0 Comments