Ticker

6/recent/ticker-posts

صاحب ملکیت طبقات کی اقتدار کی حصہ پتی پر جنگ

صاحب ملکیت طبقات کی اقتدار کی حصہ پتی پر جنگ

پی ڈی ایم اور فوجی اسٹیبلشمنٹ کی آنکھ مچولی جاری ہے۔ پی ڈی ایم جب اسٹیبلشمنٹ کے اہم افراد جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید پر کھل کر تنقید کرتی ہے تو اسٹیبلشمنٹ دفاعی پوزیشن اختیار کر لیتی ہے۔ پی ڈی ایم میں موجود پارٹیاں اقتدار حاصل کرنے یا حصہ پتی حاصل کرنے کے لیے اسی اسٹیبلشمنٹ کی قیادت سے بارگیننگ کا راستہ کھلا رکھنا چاہتی ہیں۔کیونکہ وہ عوامی طاقت پر بھروسہ کم رکھتی ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ جب اسٹیبلشمنٹ کے پیغام رساں  پی ڈی ایم میں غصہ کرنے والی پارٹی تک پیغام پہنچاتے ہیں تو وہ اقتدار ملنے کی امیدیں باندھنا شروع کر دیتی ہیں اور ان کی قیادت تنقید سے گریز کرتے ہوئے اپنی نچلی قیادت سے اسٹیبلشمنٹ کی غیر جانبداری کا ڈھول پیٹنا شروع کر دیتی ہیں۔

کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان سمجھتی ہے کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ اس وقت ایک طبقے کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ یہ اُس سرمائے کی نمائندگی کر رہی ہے جس کے بنائے ہوئے اداروں کے پاس ذرائع پیداوار ہیں۔ ان پر کوئی ٹیکس بھی نہیں ہے۔ان کا منافع غالباً صرف جنرلوں سے لیکر  بریگیڈیئرز تک کو ملتا ہے۔ وہ صنعت تجارت مالیاتی سرمایہ پر مشتمل ادارے رکھتے ہیں۔ ان کے علاوہ زراعت جیسے ذریعے پیداوار میں بھی ان کا سرمایہ موجود ہے۔ ملک میں موجود ذرائع پیداوار میں فوجی اسٹیبلشمنٹ کا حصہ ایک تخمینے کے مطابق 50 فیصد سے زیادہ ہے۔ سرکاری شعبہ کے اداروں کے ڈائریکٹر جنرل، چیف ایگزیکٹو آفیسر یا ضلعی انتظامیہ میں 80 فیصد تک حاضر سروس یا ریٹائرڈ فوجی افسر موجود ہیں۔ جس ادارے کے پاس اتنے بڑے پیمانے پر ذرائع پیداوار موجود ہوں تو وہ ادارہ سیاست سے کیسے دور رہ سکتا ہے۔ اس ادارے سے فائدہ حاصل کرنے والے ایک طبقےکی صورت میں منظم ہیں۔ وہ ریاستی اقتدار اعلیٰ پر اپنی گرفت کی کمزوری کیسے برداشت کر سکتے ہیں۔
 
ہر سرمایہ دار ریاست میں پیداوار کی مالک قوتیں ہی اقتدار اعلیٰ پر قابض ہوتی ہیں  وہ یہ نا صرف اپنی ضرورت بلکہ حق سمجھتی ہیں۔ اس کو وہ جمہوریت کا نام دے کر عوام کو مطمئن کرتے ہیں۔
ایسے حالات میں سرمایہ دار اور جاگیر دار طبقوں کی نمائندہ پارٹیاں یہ راگ کیسے الاپتی ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ غیر جانبدار ہو گئی ہے۔ ان پارٹیوں کی قیادت اقتدار میں حصہ پتی کم ہونے یا چھن جانے کی وجہ سے اشتعال میں ہوتی ہیں. وہ اقتدار میں حصہ پتی حاصل کرنے اسے مزید بڑھانے جاری و ساری رکھنے کے لیے کوشاں رہتی ہیں۔  2018 کے انتخابات میں اقتدار نواز لیگ سے چھینا گیا۔ جمعیت العلماء اسلام (ف) کو بھی کچھ حاصل نہیں ہوا اس وجہ سے یہ دونوں پارٹیاں اشتعال میں نظر آ رہی ہیں

پیپلز پارٹی 2018 کے انتخابات  سے قبل بھی صرف سندھ میں برسرِ اقتدار تھی اور اس کے بعد بھی اسے سندھ میں اقتدار حاصل ہے۔ اس وجہ سے پیپلز پارٹی اقتدار سے محروم پارٹیوں کی فہرست میں نہیں آتی۔ پیپلز پارٹی اسٹیبلشمنٹ سے اختلاف بڑھانے سے گریزاں ہے، تاکہ سندھ حکومت بھی ہاتھ سے نہ نکل جائے ۔پیپلز پارٹی کی اس کمزوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فوجی اسٹیبلشمنٹ پی ڈی ایم کی پارٹیوں کو مختلف مرحلوں پر آسانی سے فریب میں مبتلا کر دیتی ہے اور یہ نعرہ بلند کرواتی ہے کہ "ایک زرداری سب پہ بھاری"۔ دراصل زرداری فوجی اسٹیبلشمنٹ کے داؤ پیچ میں ایک مہرے کے طور پر استعمال ہو رہا ہے ۔

سینیٹ کے انتخابات سے قبل ضمنی انتخابات کے وقت صرف ڈسکہ کی سیٹ پر کھلی دھاندلی ہوئی ۔ باقی سیٹوں پر بڑی حد تک رعایت دی گئی ۔اس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ اسٹیبلشمنٹ غیر جانبدار ہو گئی تھی, بلکہ سینیٹ کے چئیر مین کا انتخاب جو ضمنی انتخابات سے زیادہ اہم تھا اس میں دو دو ہاتھ کرنے کے لیے رعایت برتی گئی تھی ۔ویسے بھی ضمنی انتخابات والی نشستیں ماسوائے ایک آدھ کے پہلے جن پارٹیوں کی تھیں انہی کو واپس ملیں ۔ان سے اقتدار اعلیٰ پر کوئی لمبا چوڑا فرق نہیں آنا تھا۔ اسلام آباد کی سینیٹ سیٹ پر اسٹیبلشمنٹ یوسف رضا گیلانی کو جتوانا نہیں بلکہ حفیظ شیخ کو شکست دلانا چاہتی تھی اور عالمی مالیاتی سامراج (پاور بروکر)  کو باور کروانا چاہتی تھی کہ یہ پارٹیاں آپ سے وفادار نہیں صرف ہم ہی آپ کے وفادار ہیں ۔اگر ہم تھوڑی بہت غیر جانبداری دکھاتے ہیں تو یہ حال ہو جاتا ہے۔جبکہ حفیظ شیخ کے ہارنے سے اس کی موجودہ پوزیشن پر بھی کوئی آنچ نہیں آنی تھی اور نہ آئی۔ وہ پہلے کی طرح وزیر اعظم کے مشیر خزانہ اور وزیر کے مرتبے کے ساتھ کام جاری رکھے ہوئے ہیں ۔فوجی اسٹیبلشمنٹ کی مدد سے وہ پاکستانی معیشت کے وائسرائے بنے ہوئے ہیں ۔سینیٹ کے چئیر مین کے انتخاب میں فوجی اسٹیبلشمنٹ کے پیغام رسانوں نے پی ڈی ایم میں کسی حد تک کمزور حصے  کو کہا کہ اپنے سینیٹروں کو سمجھاؤ اور صادق سنجرانی کو منتخب کراؤ ۔ یہ واضح تھا کہ صادق سنجرانی کسی بھی سویلین پارٹی کا نمائندہ نہ پہلے تھا نہ اب ہے۔ صادق سنجرانی کی پنجاب کے دوست سرمایہ داروں کی محفل میں کی گئی گفتگو کی ویڈیو وائرل ہو چکی ہے، جس میں وہ کہہ رہے ہیں کہ "پہلی مرتبہ چیئرمین کے انتخاب کے وقت مجھے گھر بیٹھے فون کال موصول ہوئی کی اسلام آباد پہنچو تمہیں سینیٹ کا چیئرمین بنایا جا رہا ہے اور میں چیئرمین بن گیا۔ اب بھی میں انہیں قوتوں کا امیدوار ہوں وہی مجھے منتخب کروائیں گے۔ باقی رہا سوال پیپلز پارٹی کا وہ تو بکاؤ مال ہے"۔

تجزیہ نگار سنجرانی کے چیئرمین کے انتخاب میں پہلے بھی اور اب بھی پیپلز پارٹی کی اسٹیبلشمنٹ کی معرفت مدد کا ذکر کر رہے ہیں۔
پی ڈی ایم میں موجود تین بڑی پارٹیوں نواز لیگ, پیپلز پارٹی، جے یو آئی(ف) کا طبقاتی تجزیہ کیا جائے تو مختصراً ان کی بناوٹ کچھ اس طرح ہے۔ نواز مسلم لیگ صنعتی و تجارتی سرمایہ دار کے غالب حصے کی نمائندگی کرتی ہے، جبکہ جاگیردار طبقہ بھی اس کا جونیئر پارٹنر ہے۔ بڑی حد تک یہ پارٹی مذہبی رجحان کی حامل ہے۔ ہمیشہ پرواسٹیبلشمینٹ رہی ہے۔ اس بار ذرا اسٹیبلشمینٹ کے خلاف لب کشائی کی ہے۔ نواز لیگ کی زیادہ تر حمایت اور حلقہ انتخاب پنجاب ہے۔ جبکہ فوجی اسٹیبلشمینٹ کا ہوم گراؤنڈ بھی پنجاب ہے۔ اس وجہ سے پنجاب میں فوجی اسٹیبلشمینٹ کے خلاف کسی حد تک عوامی حمایت متاثر ہوئی ہے۔ پنجاب میں بائیں بازو کی قوتیں فوجی اسٹیبلشمنٹ کے سیاست اور ریاست کے معاملات میں دخل اندازی اور انکی جابرانہ پالیسیوں کے خلاف آواز بلند کرتی رہی ہیں۔ لیکن فوجی اسٹیبلشمنٹ کا مؤثر پروپیگنڈہ اور مذہبی قوتوں کے تعاون کی وجہ سے بائیں بازو کی آواز دب جاتی تھی۔ اب نواز لیگ کی طرف سے خاص طور پر نواز شریف اور مریم کے بیانات نے فوجی اسٹیبلشمینٹ کو پنجاب میں حمایت سے محروم کرنا شروع کر دیا ہے۔ نواز لیگ کا یہ کردار کسی حد تک مثبت ہے۔

پیپلز پارٹی جاگیر داروں ،دیہی سرمایہ داروں کی نمائندہ پارٹی ہے۔ لیکن اس کے پرانے کردار کی وجہ سے جمہوریت پسند ،اسٹیبلشمنٹ مخالف اور ترقی پسند قوتیں بھی اس پارٹی میں موجود ہیں۔ یہ پارٹی اس وقت بنیادی طور پر زرداری خاندان کے مفادات کے لیے کام کر رہی ہے۔ بوقت ضرورت جمہوریت پسند حصے کو تھوڑا ابھارا جاتا ہے۔ یہ پارٹی عمومی طور پر لبرل پارٹی رہی ہے۔ لیکن اقتدار کے حصول اور اسے قائم رکھنے کے لیے مذہبی اشرافیہ سے ہر قسم کا سمجھوتا کرنے کے لیے پہلے بھی تیار رہتی تھی اور اب بھی تیار رہتی ہے۔اس کی ان سمجھوتے باز پالیسیوں کی وجہ سے ملک میں مذہبی قوتوں کو بہت تقویت ملی ہے۔اس دور میں زرداری کی کمزوریوں کی وجہ سے وہ اسٹیبلشمنٹ سے کوئی جگھڑا مول لینے کے قابل نہیں رہی۔ جے یو آئی (ف) مذہبی اشرافیہ کی نمائندہ پارٹی ہے ان کا مقصد تو بظاہر ملک میں مذہبی نظام اور مذہبی معاشرے کا قیام ہے۔لیکن افغان جنگ میں ڈالرز حاصل کر کے طالبان کی نفری مہیا کرنے کی وجہ سے اس کی قیادت پاور بروکر سے ہر قسم کا سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار رہتی ہے ۔ ہر دور میں اقتدار میں  چھوٹی موٹی حصے داری پر اکتفا کر کے حکومت کا حصہ بن جاتی ہے۔ اس پارٹی کے پھیلائے ہوئے مذہبی اداروں کے جال سے سماج تاریخی پراسس میں آگے بڑھنے کی بجائے پسماندگی کی طرف جا رہا ہے. تحریک انصاف آج کے دور کی ق لیگ ہے یعنی اسٹیبلشمنٹ کی بی ٹیم ہے۔ اسٹیبلشمنٹ مذہبی چورن کو استعمال کرتی ہے تو پی ٹی آئی بھی وہ کر رہی ہے۔ پی ٹی آئی اور ق لیگ موقع پرست اور گرگٹ کی طرح رنگ بدلنے والے مفاد پرستوں کا ٹولہ ہے۔ لہذا ان پر تجزیہ میں زیادہ سر کھپانے کی ضرورت نہیں ہے۔

ایک بات واضح کرتے چلیں کہ عالمی سطح پر اور پاکستان میں بھی کلاسکیل جاگیر داری نہیں رہی۔ آج کے دور میں سرمایہ دار اور مذہبی اشرافیہ کا چولی دامن کا ساتھ ہے، جو پہلے صرف جاگیرداروں کا ہوتا تھا۔
سینیٹ و ضمنی انتخابات کے دوران تمام برقی میڈیا پر انتخابات کی خبریں حاوی رہیں۔ اس دوران عوام پر ہر پندرہ روز بعد مہنگائی کی برسات ہوتی رہی۔ یہ سلسلہ ایسے ہی رہا جیسے  ضیاء دور میں عوام کی توجہ بدلنے کے لیے آئے دن کرکٹ میچز ہوتے رہے اور پی ٹی وی پر نامور ڈرامہ نویسوں کے ڈرامے قسط وار چلتے رہے۔ اس طرح ضیاء الحق نے جبر جاری رکھا اور اقتدار کو بھی طوالت دیتا رہا۔

یہ تمام حکمران طبقات سول ہوں یا وردی والے ملکی خزانے کو لوٹ رہے ہیں۔ ملک مقروض ہوتا جا رہا ہے۔ اسٹیٹ بینک کی جنوری 2021 کی رپورٹ کے مطابق روزانہ 13 ارب 10 کروڑ قرض لیکر ملکی معاملات کو چلایا جا رہا ہے۔ اس قرض کے بدلے قرض دینے والے ادارے آئے روز نئے ٹیکس لگواتے ہیں، سبسڈیز کم کرواتے ہیں۔ اس مارچ مہینے میں  14سو ارب کی سبسڈی واپس لی گئی ہے۔ اس کے نتیجے میں عام عوام خاص طور پر محنت کش طبقے کی زندگی بے انتہا مشکل کا شکار ہو گئی ہے۔                                      

اب سوال یہ ہے کہ کیا کرنا چاہیے۔ بائیں بازو اور ترقی پسند خیالات کے لوگ ایک ہی نسخہ لیے بیٹھے ہیں کہ ملک میں بائیں بازو کی کوئی ایک پارٹی بنائی جائے۔ باقی تمام ختم کی جائیں یا پھر کوئی اتحاد بنایا جائے۔ ہماری رائے بھی یہ ہے کہ اتحاد کے لیے کم سے کم پروگرام پر اتفاق کرتے ہوئے ایک دوسرے کے خلاف پروپیگنڈہ بند کر کے عوامی ایشوز پر جدوجہد کرنی چاہیے۔ اس کے لئے بائیں بازو کی پارٹیوں اور گروپوں کی قیادت کو مفادات قربان کرکے ذاتی اناؤں کو چھوڑنا پڑے گا ۔حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کا معاملہ بہت گمبھیر ہے۔ اس چالاک، پینترے باز، سامراج کی مددگار اور تربیت یافتہ فوجی اسٹیبلشمنٹ سے نجات پانے کے لیے سب سے پہلے ایک مضبوط نظریاتی ہتھیار سے مسلح تربیت یافتہ کیڈر کی حامل پارٹی کی ضرورت ہے۔ ایسی پارٹی کے بغیر بائیں بازو کے نعرے لیکر عوام کو کیموفلاج کر کے فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ سمجھوتے کر کے اقتدار میں حصہ پتی تو حاصل کی جا سکتی ہے۔ جو چند افراد کے مفادات کا وسیلہ بنے۔ جس طرح 70 کی دہائی میں ہوا۔ لیکن نظام نہیں بدلا جا سکتا۔ نظام تو دور کی بات فوجی اسٹیبلشمنٹ سے جان چھڑانا بھی مشکل ہے۔ اس کے لیے ایک مارکسی لیننی پارٹی کو طاقت ور کر کے اس کے گرد باقی بائیں بازو کی چھوٹی پارٹیوں و گروپوں کو متحد کر کے آگے بڑھا جا سکتا ہے۔

امداد قاضی
سیکریٹری جنرل
کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان

Post a Comment

0 Comments